15 جولائی 2016 - 11:38
کشمیریوں کے ساتھ انسانی رویہ اپنا جائے، نئی دہلی میں طلباء کا احتجاج

اس موقعے پر سول سوسائٹی کارکن شبنم ہاشمی نے کہا کہ بھارتی حکومت کو چاہئے کہ وہ کشمیریوں کے تئیں انسانی رویہ اپنائے۔ جے این یو طلباء ایسوسی ایشن کی نائب صدر شیلا رشید نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل نہیں نکالا جاتا، اس طرح کی صورتحال سامنے آتی رہیں گی۔ اس موقعے پر آل انڈیا پروگریسو وومنز ایسوسی ایشن کوتا کرششن نے بھی خطاب کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلباء، خواتین گروپ، وکلاء اور انسانی حقوق کارکنوں نے ایک خاموش جلوس نکالا جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہورہی ہلاکتوں اور مظاہرین کے خلاف اضافی طاقت کا استعمال کئے جانے کی مذمت کی گئی۔ اس جلوس میں سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی جو سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ہاتھوں میں بینر اٹھائے ان کارکنوں نے کشمیر ہم تمہارے ساتھ ہیں، کشمیریوں پر گولیاں برسانا بند کرو، 39 افراد کا قتل چار روز میں، اب قتل عام بند کرو کے بینر اٹھائے تھے جبکہ بازﺅں پر کالی پٹیاں بھی باندھی گئی تھیں۔ اس موقعے پر سول سوسائٹی کارکن شبنم ہاشمی نے کہا کہ بھارتی حکومت کو چاہئے کہ وہ کشمیریوں کے تئیں انسانی رویہ اپنائے۔ جے این یو طلباء ایسوسی ایشن کی نائب صدر شیلا رشید نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل نہیں نکالا جاتا، اس طرح کی صورتحال سامنے آتی رہیں گی۔ اس موقعے پر آل انڈیا پروگریسو وومنز ایسوسی ایشن کوتا کرششن نے بھی خطاب کیا۔ درایں اثنا احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھارت کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ تامل ناڈو تک پہونچ گیا اور پنجاب کے شہر امرتسر میں بھی کشمیروں کی حمایت میں احتجاج ہوا جہاں یوتھ اکالی دل سے وابستہ نوجوانوں نے دھرنا دیا۔ سکھ نوجوانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن میں برہان وانی کی تصاویر چسپاں تھیں اور ’’حیوانوں کو بھی اس طرح تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جاتا، جس طرح کشمیر میں انسانوں پر تشدد ڈھایا جارہا ہے‘‘ کی عبارت بھی کنندہ تھی۔ کئی مقامات پر جاں بحق ہوئے شہریوں کے حق میں دعائیہ مجالس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

.......

/169